9 جون 2013 - 19:30
فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی جلد

فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم اسما عیل ھنیہ نےآج غزہ میں ایک کیمپ کی افتتاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ان کےوطن واپسی کے حق سے ھرگز چشم پوشی نہیں کی جاۓ گی اور فلسطینی پناہ گزیں بہت جلد اپنے وطن واپس آجائیں گے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ نسل خدا کی مدد سے مزاحمت و استقامت جاری رکھتےہوۓ غاصب صہیونی حکومت کے قبضہ سےفلسطین کی آزادی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا مشاہدہ کریں گے .

ابنا: فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم اسما عیل ھنیہ نےآج غزہ میں ایک کیمپ کی افتتاہی تقریب  سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ان کےوطن واپسی کے حق سے ھرگز چشم پوشی نہیں کی جاۓ گی اور فلسطینی پناہ گزیں بہت جلد اپنے وطن  واپس آجائیں گے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ نسل  خدا کی مدد سے مزاحمت و استقامت جاری رکھتےہوۓ غاصب صہیونی حکومت کے قبضہ سےفلسطین کی آزادی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا مشاہدہ کریں گے انھوں نے کہا کہ صہیونی حکومت پر زوال آتا جارہاہےاور صہیونی غاصب حکومت کا مستقبل فلسطین پر تسلط کے حوالے سے تاریک رہے گاقابل ذکر ہے کہ پچپن لاکھ سے زیادہ فلسطینی چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت کے سبب بے گھر ہیں  غاصب صہیونی حکومت مغربی حکومتوں کی حمایت سےہمیشہ فلسطینیوں کو ان کے وطن سے باہر نکالنے کی پالیسی کو اپنے منصوبوں کی ترجیحات میں قرار دیتی رہی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلی لاکر اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو تیزی سے جاری رکھ سکےواضح رہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پچپن لاکھ سے زیادہ فلسطینی آوارا وطنی کی زندگی بسر کررہےہیں فلسطینی پناہ گزینوں کی یہ تعداد  عالمی سطح پر ایک بڑی تعداد ہے جو غاصب صہیونی حکومت کے غیر انسانی رویہ کی غماز ہے فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ  کا یہ بیان در حقیقت فلسطین کے خلاف ان امریکی اقدامات پر رد عمل ہے  جن کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کی تنسیخ سمیت  ان کے تمام حقوق کو پائمال کرناہےامریکہ کا نیا سازشی منصوبہ بحران فلسطین کے خلاف امریکہ اور مغربی حکومتوں کے سازشی منصوبوں کوپایۂ تکمیل تک پہنچانے والاہے مشرق وسطی میں ساز باز کاعمل جوبنیادی طور پر انیس سو اکیانوے میں امریکہ اور مغربی حکومتوں  کی ھدایت پر وجود میں آیا علاقہ میں امریکہ کے گہرے تسلط پسندانہ اقدامات کا غماز ہے امریکی منصوبہ کا دوسرا محور سعودی عرب کی جانب سے سن دوھزار دو میں پیش کیا جانے والا  عرب ساز باز کا منصوبہ ہے  جس کا مقصد علاقے میں جعلی حکومت کو قانونی بناناہےیہ امن منصوبہ پہلی بار سن دو ھزار دو میں سعودی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا جس میں غاصب صہیونی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کئے جانے پر مبنی اس غاصب حکومت کے ساتھ بائیس عرب ملکوں کا جامع معاہدہ شامل ہے  یاد رہے کہ اس عربی منصوبہ کی بنیاد صہیونی حکومت کے آگے تسلیم ہونے اور اس کی تسلط پسندانہ پالیسیاں تسلیم کرنے پر استوار ہے  حقیقت یہ ہے کہ مغربی حکومتیں اور خاص طور سے امریکہ جو غاصب صہیونی حکومت کے حامی شمار ہوتےہیں اس غاصب حکومت کے ساتھ ہماہنگی کے دائرےمیں فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپسی کے حق سے محروم کرنے میں کوشاں ہیں ان مشترکہ تجاویز میں فلسطینی پناہ گزینوں کو ان ملکوں میں جن میں وہ پناہ گزیں ہیں دائمی سکونت فراہم کرناہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد ایک سو چورانوے سمیت اس عالمی ادارےکی دیگر قرار دادوں میں واضح الفاظ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور انھیں سارا تاوان اداکئے جانے پر تاکید کی گئی ہے....../169